Saturday, 30 January 2016

واجہ مولا بخش دشتی

اوباش و عیاش سردار زادوں کیجانب سے آزادی کے نام بلوچستان میں جاری قتل عام کے آجکے صورتحال پر واجہ مولا بخش دشتی کی پیشن گوہیاں ملاحظہ کیجیے!!!!! 11جولائ، یوم شہادت واجہ مولابخش۔۔۔۔۔۔۔۔
11جولائ، کمانڈر بی ایل ایف فضل حیدر مارا گیا۔۔۔۔۔عجیب اتفاق،،،قاتل بھی ایک اور نعرہ بھی ایک!!!! 11جولائ، تربت میں کل 9بلوچ آزادی پسند جہدکاراپنےہی مکتب فکر کے لوگوں کے ہاتھوں مارے گۂے، 6 ناصر آباد میں اور تین ھوشاپ میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!
آج سے تقریبا بارہ سال قبل، غالبا 2003 کے اواۂل میں واجہ مولابخش نے کسی مشترکہ دوست کی مدد سےچیرمین غلام محمد کے ساتھ تفضیلی اور فیصلہ کن میٹنگ کی، واجہ مولابخش نے غلام محمد کے سامنے واضح و واشگاف انداز میں اپنی باتوں کو رکھا اور کہا کہ سیاست اپنی جگہ ھم تینوں بچپن کے زمانے سےقریبی دوست ھیں، ھم ایک دوسرے کےساتھ منافقت نہیں کر سکتے، مولابخش نے غلام محمد پر واضح کیا اور کہا کہ مجھے قاۂل کریں کہ واقعی میں دنیا کے طاقتور قوتوں نے پاکستان کو توڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ ایمانداری کیساتھ بلوچستان کی آزادی کے کاز کو مکمل سپورٹ کرتے ہیں اور اندرونی صورت میں بہ حیثیت قوم ھم اتنے مضبوظ ہیں کہ پاکستان کے ساتھ جنگ اور اسکے اثرات کا مقابلہ کرسکیں تو بی این ایم (نیشنل پارٹی کی تشکیل نہیں ہواتھا) کو مسلح جدوجہد کے لاۂن پر لانا میری ذمہ داری ہے، طویل بحث و مباحثہ کے دوران واجہ مولابخش نے افغانستان اور ہندوستان کے پراکسی وار کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوہے کہا کہ ھمارے خونخوار جنگی سرداروں کے مفادات جب بھی خطرے میں پڑجاتے ہیں تو وہ بلوچستان کے نام پر نئ دکان کھول لیتے ہیں، ریاستوں کی تقسیم اور تشکیل کو عالمی طاقتوں کے مفادات سے مشروط کرتے ہوہے اس خطے میں جغرافیائ تبدیلیوں کے امکانات کو رد کرتےہوہے انہوں نے تامل اور کرد موومنٹ کو کریش کرنے کی پیشن گوئ کی۔۔واجہ مولابخش نے مستقبل کی منظر کشائ کرتے ہوہے غلام محمد سے کہا کہ آج ایک یا دو مسلح تنظیمیں آزادی کی جنگ کا اعلان کررہے ہیں، یہ پرکشش نعرہ یوتھ کو متاثر کریگا، تھوڑا بہت مقبولیت حاصل کرنے کے بعد ان کے دماغ خراب ہوجاہیں گےاور اپنی حاصل مقبولیت کو ہضم نہیں کرپاہیںگے، پھر معاشرہ کو بندوق کے نوک پر اپنا تابع بنانے کی کوشش کرینگے، جو اختلاف کریگا اسے ماردینگے، معاشرہ سہم جاہیگا، سیاست، سیاسی عمل، کاروبار و اکانومی، تعلیم سمیت تمام بنیادی قومی ادارے تباہی سے دوچار ہونگے، معاشرہ جمود کا شکار ہوگا،
واجہ مولابخش نے خوف زدہ معاشرہ کی وسیع پیمانے پر ہجرت کی بھی پیشن گوئ کرتے ہوہے اس عمل کو قومی مرگ سے تعبیر کیا اور یہ بھی کہا کہ بعدازاں ہر سردار اپنا الگ مسلح تنظیم بنا کر اس منافع بخش کاروبار میں اپنا حصہ وصول کریگا، خود یورپ میں پر آساۂش زندگی گزارینگے یہاں پر غریب کے بچے کو پاکستانی فوج کے سامنے مرنے کے لۂے کھڑا کرینگے،۔۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت آہیگا کہ درجنوں کے حساب سے مسلح تنظیمیں ھونگے تو ریکروٹمنٹ کا مسلہ پیدا ھوگا لہذا یہ معاشرہ کے جراہم پیشہ لوگوں اور معاشرہ کی طرف سے مستردشدہ عناصر کو بھرتی کرینگے تو یہ جراہم پیشہ لوگ آزادی کے جھنڈےساۂے تلے چوری اور ڈکیتیاں شروع کرینگے، علاقائ کنٹرول اور مالی مسہلوں پر آپس میں لڑینگے۔۔
مولابخش نےاپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہوہے کہا کہ انکی نظر میں یہ جنگ قبل از وقت ہے اور آگے چل کر یہ جنگ بذات خود ریاست کے مفادات و مقاصد کو پورا کریگا اور بلوچ قومی مفادات کے خلاف استعمال ہوگا، پچاس ہزار لوگ مرواکر یہ جنگ اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا مگر بلوچستان اور بلوچ کے تاریخی موومنٹ کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کریگا۔
واجہ مولابخش نے چیرمین غلام محمد کو خانہ جنگی کی کیفیت کی پیشن گوئ کرتے ہوہے تنبہ کی کہ غلام محمد کچھ بھی نہیں ھوگا تم خود کو بھی مرواؤگے اور ہمیں بھی مرواؤگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
واجہ مولابخش کو آزادی دشمن، بلوچ دشمن، بلوچستان دشمن، قومی تحریک کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا الزام لگا کر آزادی کے نعروں کی گونج میں قتل کردیا گیا، مبادہ مولابخش زندہ رہیگا تو آزادی کی تحریک آگے کی جانب نہیں بڑھیگا،،،
آہیں بارہ برس پہلے مولابخش دشتی کے پیش کردہ علمی تجزیوں اور پیشن گوۂیوں کا جاۂزہ لیتے ہیں کہ آج مولابخش جھوٹا ثابت ہواہے یا آزادی کے فرنچاہز مالکان؟؟؟؟؟؟

No comments:

Post a Comment