Tuesday, 24 June 2014

Kamal Ka Idrees (IDREES KAMAL)

انسانی حقوق کے علمبردار ادریس کمال، جو اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔۔۔

لوگ بادشاھوں اور نوابوں پہ مرثیے لکھتے ھیں مگر میں ایک درویش صفت اور امن پسند استاد کو ھمیشہ یاد رکھوں گا جو ھمارا قاید نہ بلکہ دوست بھی تھا.
ھم سال 2009 سے فیس بک کے دوست تھے اور تب میں 2010 میں جب پشاور منتقل ھوا تب سے انکے زیر سایہ رھا.
ادریس کمال جیسے شخص کو میں زندگی بھر نہیں بھول سکتا کیونکہ آج میں جو بھی ہوں انکی تربیت کا اثر ھیں، وہ نہ صرف میرے سیاسی استاد تھے بلکہ انہوں نے مجھے معاشرے کے پسے ھوے افراد اور خوانین کے استحصالی جبر سے تنگ مظلوم طبقے کی خدمت کرنے کا سلیقہ بھی سکھایا.
محمد ادریس کمال نے1967ء میں صوبہ خیبرپختونخواہ کے ضلع نوشہرہ میں دریائے کابل کے کنارے واقع ایک چھوٹے گاؤں اکبرپورہ ترخہ میں مولوی نورالحق کے گھر میں آنکھیں کھولیں جو کہ وہاں کے مقامی مسجد میں پیش امام تھے۔اصل میں یہ ایک مذہبی گھرانہ تھا،لیکن اس کے باوجود اس گھرانے کے چند افرادپشتون قومی ترقی پسند سیاست میں ملوث تھے۔ادریس کمال کے چھوٹے چچا ایک سیاسی کارکن تھے اور ان سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے انہیں کئی بار جیلوں میں جانا پڑا۔ ادریس کمال نے اپنے چچا کو اپنی سرزمین اور اپنے لوگوں سے محبت کرتے دیکھ کر بڑا ہوا تھا، تو فطری طور پر اس کے دل میں اس مٹی سے محبت کا جذبہ موجود تھا۔بہت چھوٹی عمر میں اس نے ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نام سے ایک ترقی پسند طالب علم تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔اور بہت جلد اس تنظیم کا سربراہ مقرر ہوا، زمانہ طالب علمی میں ہی اس نے اس عمل کے دوران بہت اتار چڑھاؤ دیکھے۔وہ ایک پیشہ ورشخص تھے اور چارٹرڈ اکاؤنٹنسی میں اس نے ڈگری حاصل کی تھی۔بعد میں اس نے اپنی فرم کھولی، لیکن سیاست کی طرف انکی رجحان ہونے کی وجہ سے فرم سے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں کر سکے۔وہ اس ملک کے غریب لوگوں کی خاطر سیاست میں شامل ہو گئے تھے۔وہ طبقاتی نظام کے خلاف تھے کیونکہ اس وجہ سے انسان مختلف طبقوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔اس نے اپنی پوری زندگی لوگوں کی خدمت اور ان کو انکے حقوق دلوانے میں وقف کی تھی۔وہ ایک کسان دوست اور مزدور دوست انسان تھے۔2009 ء میں اس نے انسانیت کے دفاع کیلئے لوگوں کو منظم کرنے کی ضرورت محسوس کی۔یہ باالعموم خیبرپختونخواہ اور بالخصوص سوات اور ملاکنڈ ایجنسی کے لوگوں کیلئے مشکل وقت تھا۔لاکھوں کی تعداد میں لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر مردان،چارسدہ، صوابی اور پشاور منتقل ہوگئے۔ادریس کمال نے اپنے دیگر سماجی اور سیاسی دوستوں کاپشاورمیں جرگہ بلا کر امن تحریک کا اعلان کیا۔یہ تحریک اسی دن یونیورسٹی روڈ پرایک ناراض جلوس نکال لے آئی جس میں اسٹبلشمنٹ اوردہشت گردی کے خلاف پرزور نعرے لگائے گئے۔ امن تحریک بہت جلد ملک کے کونے کونے میں پھیل گیا۔ تما م ترقی پسند اور قوم پرست سیاسی جماعتیں اس کے اراکین تھی۔۰۴ سے زیادہ چھوٹے بڑے غیر سیرکاری اور سماجی تنظیمیں اس کے ارکین میں سے تھے۔ایک سہ روزہ ورکشاپ میں اس تنظیم نے متفقہ طور پر ایک اعلامیہ منظور کیا جس کو اعلان پشاور کہا جاتا ہے۔ادریس کمال امن تحریک کے کنوینر تھے۔اور اس نے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہیدوں،زخمیوں جسمیں پولیس اور عام شہری سب شامل ہیں اور بے گھر افراد کیلئے درجنوں کی تعداد احتجاجی جلوسیں،ڈائیلاگز،سیمیناراور دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا۔ ملالہ یوسفزئی کے والد ضیاء الدین یوسفزئی ادریس کمال کے بہت اچھے دوست تھے۔بعدازاں ادریس کمال نے سی آر ایس ڈی کے زیر اہتمام ایک سیمینار کا انعقاد کیاجس میں ملالہ یوسفزئی کو بھی شرکت کرنے کی دعوت دی گئی۔ادریس کمال نے بلوچستان کے وزیر اعلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی اور خیبر پختونخواہ کے جنرل سیکرٹری مقرر تھے۔7جون 2013ء کو ادریس کمال اپنے دوستوں کے ہمراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے حلف برداری کی تقریب میں شامل ہونے کیلیے کوئٹہ پہنچے۔ اور 9 جون 2013ء کو تقریب میں شرکت کی اور اس کے اگلے ہی روز 10جون 2013
آج ھی کا دن میرے لیے کسی قیامت سے کم نھیں ھے کیونکہ یہ ھی دن تھا جب میں اور ذبیح اللہ وردگ ان سے کہ رھے تھے لالا امبارک شہ خو بو د نتلو اور اس عظیم شخص نے کہا کیا کرنا تھا اپنے پرچے دو ڈاکٹر صاحب خود آرہے ھیں ایک ہفتے میں پشاور.
اور وہ آ بھی گیے پر آپ نہ رھے تھے. فون کے پورے چار گھنٹے بعد آپ کا انتقال ھو گیا تھا.
آج بھی مجھے پشاور میں ھر طرف آپ دکھایی دیتے ھیں وہ نشترہال ھو یا امن پارک اور یا پریس کلب.
اج پشاور کو پھر سے اپکی، امن کی اور مسیحا کی تلاش ھیں.
آپ مرے نھیں زندہ ھیں ھم سب کی دلوں میں.
امن کے اس عظیم پیامبر کو سرخ سلام.
سفیر خان درانی
مرکزی صدر ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان.
A tribute to life and struggle of my leader and teacher Idrees Kamal

http://www.facebook.com/Idrees.Kamal