Friday, 26 December 2014

تیل کا کھیل

تیل کا کھیل
[تحریر: لال خان]
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں مسلسل کمی کے باوجود عوام کو وہ ریلیف نہیں مل سکا جس کی توقع کی جارہی تھی۔ پاکستان میں تیل کی قیمت میں ہونے والی کمی، عالمی منڈی کی کمی کے 50 فیصد سے بھی کم ہے۔ گیس کی قیمت میں اضافے کے لئے پہلے ہی پر تولے جارہے ہیں۔ 40 فیصد بجلی فرنس آئل سے پیدا ہوتی ہے لیکن وزارت خزانہ کی جانب سے آئی ایم ایف کو لکھے گئے تازہ خط میں بجلی کے نرخ بڑھانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ ان یقین دہانیوں کے بعد ہی آئی ایم ایف نے قرض کی نئی قسط جاری کی ہے جس کا زیادہ تر حصہ پرانے قرضوں پر سود کی ادائیگی کی نذر ہو کر سامراجی بینکوں کی تجوریوں میں واپس چلا جائے گا۔ حکمران طبقہ پے درپے ہونے والے اندوہناک واقعات اور سانحات کو بھی اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتا ہے۔ سانحہ پشاور کی آڑ میں عوام پر اقتصادی اور ریاستی جبر میں مزید اضافے کی تیاری کی جارہی ہے۔
سرمایہ دارانہ معیشت دانوں کے عمومی تناظر کے برعکس تیل کی قیمت میں کمی عالمی معیشت کو بحران سے نہیں نکال پائے گی۔ آئی ایم ایف کی کرسٹین لیگارڈ کے مطابق تیل کی قیمت میں کمی ’’عالمی معیشت کے لئے اچھی خبر ہے۔ ‘‘ لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ یہ آئی ایم ایف ہی ہے جو پاکستان سمیت کئی دوسرے ممالک میں سستے تیل سے ہونے والی بچت کو صارفین تک منتقل نہیں ہونے دے رہا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے عالمی معیشت کی ’’بحالی‘‘ کی باتیں بھی بے بنیاد ثابت ہوئی ہیں۔ عالمی سطح پر معاشی جمود سرمایہ داری کے بحران میں ایک نئے مرحلے کی حیثیت رکھتا ہے۔
درحقیقت تیل کی قیمتوں میں کمی کا معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ شیل آئل (Shale Oil) کی نئی صنعت کی وجہ سے ایک طرف اگر تیل کی رسد بڑھی ہے تو دوسری طرف معاشی بحران کی وجہ سے طلب میں گراوٹ آئی ہے۔ تاہم معیشت کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کی آپسی چپقلش کا بھی اہم کردار ہے۔ شیل آئل کی وجہ سے عالمی منڈی میں امریکی تیل کا تناسب بڑھا ہے اور توانائی کے شعبے میں سعودی عرب پر امریکہ کا انحصار نسبتاً کم ہوا ہے۔ یہ صورتحال سعودی شاہی خاندان کے لئے قابل قبول نہیں ہے لہٰذا انہوں نے تیل کی پیداوار میں کمی سے انکار کیا ہے تاکہ تیل کی قیمت میں گراوٹ سے شیل آئل کی نومولود صنعت کو ناکام بنا یا جاسکے۔ قیمت کی جنگ (Price War) میں فی الوقت سعودی عرب کا پلڑا بھاری ہے۔
قیمت کی اس جنگ کے اثرات آئل انڈسٹری پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ اوسز پٹرولیم اور گڈرچ پٹرولیم جیسی مقروض کمپنیوں نے 2015ء کی سرمایہ کاری میں بڑی کمی کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح کونوکو فلپس نے اگلے سال اپنی سرمایہ کاری 20 فیصد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ’’انرجی ایسپکٹ‘‘ نامی مشاورتی ادارے کے مطابق موجودہ قیمتوں پر تیل کی 12 فیصد عالمی پیداوار غیر منافع بخش ہوگی۔ فنانشل ٹائمز نے 16 دسمبر کو انتباہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’خام تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تک گر جانے سے تیل کی پیداوار میں ایک ہزار ارب ڈالر کی متوقع سرمایہ کاری خطرے میں پڑ گئی ہے۔ پچھلے چھ ماہ میں ایکزون موبل کے شیئر15 فیصد گرے ہیں۔ اسی عرصے کے دوران شیورون اور کونوکو فلپس کے شیئرز میں بالترتیب 21 فیصد اور 26 فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔‘‘

Monday, 1 December 2014

Ghani khan 1914-2014

چه فولاد د وينے موړ په مينه مست شى

نو حيران او پريشان تار د ستار شى





Ghani Khan 1914-2014

Ghani Khan was born in Hashtnagar in 1914. He is widely considered the best pashto language poet of the 20th century and stands on a par with Khushal Khan Khattak and Rehman Baba. He was the son of the Red-Shirt Leader, Khan Abdul Ghaffar Khan, aka Bacha Khan and The Frontier Gandhi. His wife Roshan came from a parsi family and was the daughter of Nawab Rustam Jang. The couple had three children, two daughters, Shandana and Zareen, and a son, Faridun.

He went to study at Rabindranath Tagore’s Shanti Niketan Art Academy and developed a liking for painting and sculpture. He visited England, and studied sugar technology in the United States, after which he returned and started working at the Takht Bhai Sugar Mills in 1933. Largely owing to his father’s influence, he was also involved in politics, supporting the cause of the pathans of NWFP. He was arrested by the Government of Pakistan in 1948 – although he had given up politics by then – and remained in prison till 1954, visiting various jails all over the country. It was during these years that he wrote his poem collection Da Panjray Chaghaar, and considered it the best work of his life. Aside from a few poems of his youth and early manhood, Ghani Khan’s poetry, like his temperament, is anti-political. His other two poem collections are: Panoos and Palwashay. He also wrote The Pathans, a short book in English prose, published in 1958, which like his sculptures and paintings, does not compare well to his poetry, keeping in mind that he is arguably the greatest pashto language poet. He died in March 1996.

The singular distinction of his poetry – aside from his obvious poetic genius – is a profound blend of knowledge about his native and foreign cultures, and the psychological, sensual, and religious aspects of life.

Safeer Durrani
Hashtnaghar