Wednesday, 20 April 2016

مدرسوں میں نصاب کی تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے سفیردرانی

مدرسوں میں نصاب کی تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے  سفیردرانی
پشاور(پ ر)پشاور اور چارسدہ کے مختلف تعلیمی اداروں اور دینی مدرسوں میں امن کے فروغ کے حوالے سےنوجوان طلباءنے  ٹریننگ کا اہتمام شروع کردیاہے اس سلسلے میں گزشتہ روز جامعہ محمودیہ ترنگزئی چارسدہ میں دینی مدرسہ کے طلباء یک روزہ ٹریننگ کا اہتمام کیاگیا جس کا عنوان تھا ‘‘قلم نہ کہ بندوق’’۔
ٹریننگ کا مقصد سرکاری تعلیمی اداروں اور دینی مدارس کے طلباء درمیان جاری خلا کو پُر کرنا تھا اور دونوں نصابوں کو ایک پیج پر لانا تھا۔ ٹریننگ سے خطاب کرتے ہوئے نوجوان طالبعلم سفیر درانی کا کہنا تھا کہ اسلام امن کا دین ہے اور ہمیں  برداشت اور صبر کا درس دیتا ہے۔امن اورانسانیت ہی واحد راستہ ہےجو کہ ہر انسان کو اپنی طرف کھینچتا ہے اسلام نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلم لوگوں کو بھی ان کے حقوق دیتا ہے اسلام کہتاہے کہ ایک انسان کا قتل کرنا پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔انہوں نے موجودہ نصاب پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے حکمران آج تک ہمیں ایک متفقہ نصاب نہ دے سکیں جو دونوں کو منظور ہوں موجودہ نصاب سرکاری تعلیمی اداروں اور دینی مدارس کے طلباء ایک سوچ بنانے کی بجائے ایک دوسرے سے دور ہوتے جارہے ہیں۔
ٹریننگ سے مقامی حکومت کے نمائندے صفدر خان اور مولانا مسعود درانی نے بھی خطاب کیا اور کہا ایسے سرگرمیاں مدارس کے طلباء اور معاشرے کے درمیان مضبوط روابط کی بنیاد ہے اور اس سے مدارس کے طلباء اپنے حقوق کےبارے میں جان سکیں گے اور اس پروپیگنڈہ کی نفی ہوسکے گی جو کہہ رہے ہیں کہ دینی مدارس کے طلباء امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا نہٰیں کر رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک پر امن ماحول ہی موجودہ وقت کی اہم ٖضرورت ہے امن اور اجتماعی سوچ ہی وہ بنیادی عوامل ہیں
 جس کو اپنا کر ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں