Monday, 19 May 2014

Kia Pukhtoon Yahodi Nasak Sy Hai?

#کیا پشتون یہودی النسل ہے؟. #تحریر: ڈاکٹر لطیف یاد. #ترجمہ : محمدلعل خان. ماضی قریب میں بھت سارے ایسے سائٹس کا اجرا کیا گیا جو درحقیقت پشتون دشمنی، بغض و عناد تقسیم در تقسیم اور نفرت کی بنیاد پر وجود میں لاۓ گئے ہیں اور ان سائٹس پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ گویا پشتون قوم یہودی النسل ہے اور بنی اسرائیل کی ان دس گھم شدہ قبائل میں سے ایک قبیلہ ہے جو آپسی خانہ جنگی کے سبب موجودہ افغانستان کی طرف ہجرت کر آیا(حضرت عیسی کے بعد). اس قسم کے لکھاری بجاے اسکے کہ اپنی اس بات کو علمی و نظریاتی اور منطقی دلایل سے ثابت کرے نیز اپنی یہ بات مستند تاریخی کتب و تحریر سے ثابت کرے، یہ حضرات محض بے بنیاد تحاریر اور جعلی ویڈیوز کے ذریعے اپنی بات کے لیے دلائل دیتے رہے ہیں.۰ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ پشتون قوم کے حوالے سے اس قسم بے بنیاد کوششیں کی گئی ہو بلکہ یہ حرکات بہت پہلے کی ہے کہ جن کے ذریعے پشتون قوم کو کبھی بنی اسرائیل کبھی مصر کی قبطیوں کی نسل، کبھی ارمنائی و یونانی تو کبھی ھندو راجپوتوں یا بابلیوں کی اولاد سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے حتی کہ بعض متعصب اور نااہل لکھاریوں نے پشتون کو شیطانوں اور دیوو کی اولاد اور پشتو زبان کو دوزخ کی زبان ثابت کرنے کی کوشش کی جو کہ ایک غیر مہذب شرمناک بے بنیاد عمل اور علم تاریخ کیساتھ ایک گھناونا مذاق ہے۰ یہ لکھاری حضرات اس بات سے بے خبر ہے[ یا قصدا" اس بات پر پردہ ڈالتے ہیں ] کہ پشتون قوم اور پشتو زبان کا ذکر آج سے ساڑھے تین ھزار سال قبل اور حضرت عیسی کی پیدائش سے ساڑھے چودھ سو سال قبل آریا کی مقدس ترانوں {رگویدا} میں کی گئی ہے اور اس قوم کو {پکھت} کے نام سے لکھا گیا ہے جس سے مراد پختون یا پشتون ہے، رگویدا میں {پکھتا} کا لفظ پشتونوں کے بادشاہ اور لفظ {پکھت} پشتون قوم کیلیے استعمال میں لایا گیا ہے. اور ساتھ ہی دس آریہ قبائل کی لڑائی میں پکھت نام شامل ہے۰ اسی طرح زرتشت مذھب کی کتاب [اویستا] میں بھی لفظ {بخد} اور لفظ {پخت} کا ذکر موجود ہے کہ جن سے مراد پختون یا پشتون ہے. حضرت عیسی ع کی پیدائش سی پانچ سو سال قبل ایک یونانی امیر البحر سکائی لاکس جو دارا (ایرانی بادشا) کی طرف سے بحرہ عرب کی تسخیر کیلیے بھیجا گیا تھا بکتیکا {افغانستان کا صوبہ} کے راستے دریاے سندھ {آباسین انڈس] تک پہنچا اور اپنے سفرنامہ میں پشتونوں کے مسکن پکتیکا کے نام سے یاد کیا ہے۰ اسی طرح حضرت عیسی ع کی پیدائش سے دو سو سال قبل ایک اور یونانی جغرافیہ دان بطلیموس کلودیس نے بھی پشتون وطن کو پکتین، پکتیس او پکتویس ایسے ناموں سے یاد کیا ہے. دوسری طرف افغانستان اور پشتونخواہ کے نامور مورخین جیسے استاد احمد علی کہزاد، مرحوم علامہ عبدالحی حبیبی اور مرحوم بھادر شاہ ظفر کاکاخیل نے بھی اپنے علمی دلائل سے یہ بات ثابت کی ھے کہ پشتون نسل کے اعتبار سے آرئین ہے نہ کہ اسرائۂلی اور یہ کہ پشتو زبان بھی آرئین زبان ہے جو کہ ایک زندہ ادبی آرئن زبان کی حثیت سے خود ایک مضبوط تاریخی ثبوت ہے جسکا سامی النسل زبانوں سے نہ تو کوئی تعلق ہے نہ ہی یہودیوں کی زبان عبرانی سے کوئی مشترکہ تعلق و عنصر رکھتی ہے۰ مزید اس موضوع پر غیر افغان مورخین و مستشرقین جیسے پروفیسر کلیرتھ، پروفیسر ڈورن، راورٹی اور ٹرومپ بھی اس بات پر متفق ہیں کہ پشتو زبان کی سامی زبانوں اور یہودی سامی زبان عبرانی سے کوئی تعلق نہیں بنتا نیز یہ کہ پشتو زبان اپنی ھیت قواعد اور اصولوں کی بنا پر آرین زبان ہے۰ درج بالا وجوھات و دلائل کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ علم اللسان (زبانوں کا علم) کے ماھرین کی تحقیق سے یہ ثابت ہوچکی ہے کہ پشتو زبان ایک آرین زبان ہے اور یہود کی زبان عبرانی جسکو انگریزی میں ھیبرو کہا جاتا ھے سے کوئی تعلق و رشتہ نہیں اسی طرح پشتون نسل بھی یھودی نسل سے جو کہ سامی ہے سے بھی کوئی تعلق نہیں رکھتا، نیز یہ واہیات اور یہاں وہاں کی بے دلیل باتیں کہ پشتون یہودی النسل ہے ان باتوں کی کوئی تاریخی حثیت موجود نہیں۰ لہذا ثابت ہے کہ پشتون قوم ایک خالص آرین قوم ہے، اگر مان بھی لیا جاے کہ پشتون یہودی نسل ہے تو آج کے ترقی یافتہ دور میں انسانوں کی ڈی.این.اے ٹیسٹ ایک سادہ سی بات ہے جس سے ثابت ہوسکتا ہے کہ پشتونوں اور یہودیوں کے ڈی.این.ایز میں کوئی مشابھت اور تعلق موجود نہیں.