Friday, 26 December 2014

تیل کا کھیل

تیل کا کھیل
[تحریر: لال خان]
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں مسلسل کمی کے باوجود عوام کو وہ ریلیف نہیں مل سکا جس کی توقع کی جارہی تھی۔ پاکستان میں تیل کی قیمت میں ہونے والی کمی، عالمی منڈی کی کمی کے 50 فیصد سے بھی کم ہے۔ گیس کی قیمت میں اضافے کے لئے پہلے ہی پر تولے جارہے ہیں۔ 40 فیصد بجلی فرنس آئل سے پیدا ہوتی ہے لیکن وزارت خزانہ کی جانب سے آئی ایم ایف کو لکھے گئے تازہ خط میں بجلی کے نرخ بڑھانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ ان یقین دہانیوں کے بعد ہی آئی ایم ایف نے قرض کی نئی قسط جاری کی ہے جس کا زیادہ تر حصہ پرانے قرضوں پر سود کی ادائیگی کی نذر ہو کر سامراجی بینکوں کی تجوریوں میں واپس چلا جائے گا۔ حکمران طبقہ پے درپے ہونے والے اندوہناک واقعات اور سانحات کو بھی اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتا ہے۔ سانحہ پشاور کی آڑ میں عوام پر اقتصادی اور ریاستی جبر میں مزید اضافے کی تیاری کی جارہی ہے۔
سرمایہ دارانہ معیشت دانوں کے عمومی تناظر کے برعکس تیل کی قیمت میں کمی عالمی معیشت کو بحران سے نہیں نکال پائے گی۔ آئی ایم ایف کی کرسٹین لیگارڈ کے مطابق تیل کی قیمت میں کمی ’’عالمی معیشت کے لئے اچھی خبر ہے۔ ‘‘ لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ یہ آئی ایم ایف ہی ہے جو پاکستان سمیت کئی دوسرے ممالک میں سستے تیل سے ہونے والی بچت کو صارفین تک منتقل نہیں ہونے دے رہا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے عالمی معیشت کی ’’بحالی‘‘ کی باتیں بھی بے بنیاد ثابت ہوئی ہیں۔ عالمی سطح پر معاشی جمود سرمایہ داری کے بحران میں ایک نئے مرحلے کی حیثیت رکھتا ہے۔
درحقیقت تیل کی قیمتوں میں کمی کا معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ شیل آئل (Shale Oil) کی نئی صنعت کی وجہ سے ایک طرف اگر تیل کی رسد بڑھی ہے تو دوسری طرف معاشی بحران کی وجہ سے طلب میں گراوٹ آئی ہے۔ تاہم معیشت کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کی آپسی چپقلش کا بھی اہم کردار ہے۔ شیل آئل کی وجہ سے عالمی منڈی میں امریکی تیل کا تناسب بڑھا ہے اور توانائی کے شعبے میں سعودی عرب پر امریکہ کا انحصار نسبتاً کم ہوا ہے۔ یہ صورتحال سعودی شاہی خاندان کے لئے قابل قبول نہیں ہے لہٰذا انہوں نے تیل کی پیداوار میں کمی سے انکار کیا ہے تاکہ تیل کی قیمت میں گراوٹ سے شیل آئل کی نومولود صنعت کو ناکام بنا یا جاسکے۔ قیمت کی جنگ (Price War) میں فی الوقت سعودی عرب کا پلڑا بھاری ہے۔
قیمت کی اس جنگ کے اثرات آئل انڈسٹری پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ اوسز پٹرولیم اور گڈرچ پٹرولیم جیسی مقروض کمپنیوں نے 2015ء کی سرمایہ کاری میں بڑی کمی کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح کونوکو فلپس نے اگلے سال اپنی سرمایہ کاری 20 فیصد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ’’انرجی ایسپکٹ‘‘ نامی مشاورتی ادارے کے مطابق موجودہ قیمتوں پر تیل کی 12 فیصد عالمی پیداوار غیر منافع بخش ہوگی۔ فنانشل ٹائمز نے 16 دسمبر کو انتباہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’خام تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تک گر جانے سے تیل کی پیداوار میں ایک ہزار ارب ڈالر کی متوقع سرمایہ کاری خطرے میں پڑ گئی ہے۔ پچھلے چھ ماہ میں ایکزون موبل کے شیئر15 فیصد گرے ہیں۔ اسی عرصے کے دوران شیورون اور کونوکو فلپس کے شیئرز میں بالترتیب 21 فیصد اور 26 فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔‘‘

Monday, 1 December 2014

Ghani khan 1914-2014

چه فولاد د وينے موړ په مينه مست شى

نو حيران او پريشان تار د ستار شى





Ghani Khan 1914-2014

Ghani Khan was born in Hashtnagar in 1914. He is widely considered the best pashto language poet of the 20th century and stands on a par with Khushal Khan Khattak and Rehman Baba. He was the son of the Red-Shirt Leader, Khan Abdul Ghaffar Khan, aka Bacha Khan and The Frontier Gandhi. His wife Roshan came from a parsi family and was the daughter of Nawab Rustam Jang. The couple had three children, two daughters, Shandana and Zareen, and a son, Faridun.

He went to study at Rabindranath Tagore’s Shanti Niketan Art Academy and developed a liking for painting and sculpture. He visited England, and studied sugar technology in the United States, after which he returned and started working at the Takht Bhai Sugar Mills in 1933. Largely owing to his father’s influence, he was also involved in politics, supporting the cause of the pathans of NWFP. He was arrested by the Government of Pakistan in 1948 – although he had given up politics by then – and remained in prison till 1954, visiting various jails all over the country. It was during these years that he wrote his poem collection Da Panjray Chaghaar, and considered it the best work of his life. Aside from a few poems of his youth and early manhood, Ghani Khan’s poetry, like his temperament, is anti-political. His other two poem collections are: Panoos and Palwashay. He also wrote The Pathans, a short book in English prose, published in 1958, which like his sculptures and paintings, does not compare well to his poetry, keeping in mind that he is arguably the greatest pashto language poet. He died in March 1996.

The singular distinction of his poetry – aside from his obvious poetic genius – is a profound blend of knowledge about his native and foreign cultures, and the psychological, sensual, and religious aspects of life.

Safeer Durrani
Hashtnaghar

Tuesday, 24 June 2014

Kamal Ka Idrees (IDREES KAMAL)

انسانی حقوق کے علمبردار ادریس کمال، جو اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔۔۔

لوگ بادشاھوں اور نوابوں پہ مرثیے لکھتے ھیں مگر میں ایک درویش صفت اور امن پسند استاد کو ھمیشہ یاد رکھوں گا جو ھمارا قاید نہ بلکہ دوست بھی تھا.
ھم سال 2009 سے فیس بک کے دوست تھے اور تب میں 2010 میں جب پشاور منتقل ھوا تب سے انکے زیر سایہ رھا.
ادریس کمال جیسے شخص کو میں زندگی بھر نہیں بھول سکتا کیونکہ آج میں جو بھی ہوں انکی تربیت کا اثر ھیں، وہ نہ صرف میرے سیاسی استاد تھے بلکہ انہوں نے مجھے معاشرے کے پسے ھوے افراد اور خوانین کے استحصالی جبر سے تنگ مظلوم طبقے کی خدمت کرنے کا سلیقہ بھی سکھایا.
محمد ادریس کمال نے1967ء میں صوبہ خیبرپختونخواہ کے ضلع نوشہرہ میں دریائے کابل کے کنارے واقع ایک چھوٹے گاؤں اکبرپورہ ترخہ میں مولوی نورالحق کے گھر میں آنکھیں کھولیں جو کہ وہاں کے مقامی مسجد میں پیش امام تھے۔اصل میں یہ ایک مذہبی گھرانہ تھا،لیکن اس کے باوجود اس گھرانے کے چند افرادپشتون قومی ترقی پسند سیاست میں ملوث تھے۔ادریس کمال کے چھوٹے چچا ایک سیاسی کارکن تھے اور ان سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے انہیں کئی بار جیلوں میں جانا پڑا۔ ادریس کمال نے اپنے چچا کو اپنی سرزمین اور اپنے لوگوں سے محبت کرتے دیکھ کر بڑا ہوا تھا، تو فطری طور پر اس کے دل میں اس مٹی سے محبت کا جذبہ موجود تھا۔بہت چھوٹی عمر میں اس نے ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نام سے ایک ترقی پسند طالب علم تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔اور بہت جلد اس تنظیم کا سربراہ مقرر ہوا، زمانہ طالب علمی میں ہی اس نے اس عمل کے دوران بہت اتار چڑھاؤ دیکھے۔وہ ایک پیشہ ورشخص تھے اور چارٹرڈ اکاؤنٹنسی میں اس نے ڈگری حاصل کی تھی۔بعد میں اس نے اپنی فرم کھولی، لیکن سیاست کی طرف انکی رجحان ہونے کی وجہ سے فرم سے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں کر سکے۔وہ اس ملک کے غریب لوگوں کی خاطر سیاست میں شامل ہو گئے تھے۔وہ طبقاتی نظام کے خلاف تھے کیونکہ اس وجہ سے انسان مختلف طبقوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔اس نے اپنی پوری زندگی لوگوں کی خدمت اور ان کو انکے حقوق دلوانے میں وقف کی تھی۔وہ ایک کسان دوست اور مزدور دوست انسان تھے۔2009 ء میں اس نے انسانیت کے دفاع کیلئے لوگوں کو منظم کرنے کی ضرورت محسوس کی۔یہ باالعموم خیبرپختونخواہ اور بالخصوص سوات اور ملاکنڈ ایجنسی کے لوگوں کیلئے مشکل وقت تھا۔لاکھوں کی تعداد میں لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر مردان،چارسدہ، صوابی اور پشاور منتقل ہوگئے۔ادریس کمال نے اپنے دیگر سماجی اور سیاسی دوستوں کاپشاورمیں جرگہ بلا کر امن تحریک کا اعلان کیا۔یہ تحریک اسی دن یونیورسٹی روڈ پرایک ناراض جلوس نکال لے آئی جس میں اسٹبلشمنٹ اوردہشت گردی کے خلاف پرزور نعرے لگائے گئے۔ امن تحریک بہت جلد ملک کے کونے کونے میں پھیل گیا۔ تما م ترقی پسند اور قوم پرست سیاسی جماعتیں اس کے اراکین تھی۔۰۴ سے زیادہ چھوٹے بڑے غیر سیرکاری اور سماجی تنظیمیں اس کے ارکین میں سے تھے۔ایک سہ روزہ ورکشاپ میں اس تنظیم نے متفقہ طور پر ایک اعلامیہ منظور کیا جس کو اعلان پشاور کہا جاتا ہے۔ادریس کمال امن تحریک کے کنوینر تھے۔اور اس نے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہیدوں،زخمیوں جسمیں پولیس اور عام شہری سب شامل ہیں اور بے گھر افراد کیلئے درجنوں کی تعداد احتجاجی جلوسیں،ڈائیلاگز،سیمیناراور دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا۔ ملالہ یوسفزئی کے والد ضیاء الدین یوسفزئی ادریس کمال کے بہت اچھے دوست تھے۔بعدازاں ادریس کمال نے سی آر ایس ڈی کے زیر اہتمام ایک سیمینار کا انعقاد کیاجس میں ملالہ یوسفزئی کو بھی شرکت کرنے کی دعوت دی گئی۔ادریس کمال نے بلوچستان کے وزیر اعلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی اور خیبر پختونخواہ کے جنرل سیکرٹری مقرر تھے۔7جون 2013ء کو ادریس کمال اپنے دوستوں کے ہمراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے حلف برداری کی تقریب میں شامل ہونے کیلیے کوئٹہ پہنچے۔ اور 9 جون 2013ء کو تقریب میں شرکت کی اور اس کے اگلے ہی روز 10جون 2013
آج ھی کا دن میرے لیے کسی قیامت سے کم نھیں ھے کیونکہ یہ ھی دن تھا جب میں اور ذبیح اللہ وردگ ان سے کہ رھے تھے لالا امبارک شہ خو بو د نتلو اور اس عظیم شخص نے کہا کیا کرنا تھا اپنے پرچے دو ڈاکٹر صاحب خود آرہے ھیں ایک ہفتے میں پشاور.
اور وہ آ بھی گیے پر آپ نہ رھے تھے. فون کے پورے چار گھنٹے بعد آپ کا انتقال ھو گیا تھا.
آج بھی مجھے پشاور میں ھر طرف آپ دکھایی دیتے ھیں وہ نشترہال ھو یا امن پارک اور یا پریس کلب.
اج پشاور کو پھر سے اپکی، امن کی اور مسیحا کی تلاش ھیں.
آپ مرے نھیں زندہ ھیں ھم سب کی دلوں میں.
امن کے اس عظیم پیامبر کو سرخ سلام.
سفیر خان درانی
مرکزی صدر ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان.
A tribute to life and struggle of my leader and teacher Idrees Kamal

http://www.facebook.com/Idrees.Kamal


Monday, 19 May 2014

Kia Pukhtoon Yahodi Nasak Sy Hai?

#کیا پشتون یہودی النسل ہے؟. #تحریر: ڈاکٹر لطیف یاد. #ترجمہ : محمدلعل خان. ماضی قریب میں بھت سارے ایسے سائٹس کا اجرا کیا گیا جو درحقیقت پشتون دشمنی، بغض و عناد تقسیم در تقسیم اور نفرت کی بنیاد پر وجود میں لاۓ گئے ہیں اور ان سائٹس پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ گویا پشتون قوم یہودی النسل ہے اور بنی اسرائیل کی ان دس گھم شدہ قبائل میں سے ایک قبیلہ ہے جو آپسی خانہ جنگی کے سبب موجودہ افغانستان کی طرف ہجرت کر آیا(حضرت عیسی کے بعد). اس قسم کے لکھاری بجاے اسکے کہ اپنی اس بات کو علمی و نظریاتی اور منطقی دلایل سے ثابت کرے نیز اپنی یہ بات مستند تاریخی کتب و تحریر سے ثابت کرے، یہ حضرات محض بے بنیاد تحاریر اور جعلی ویڈیوز کے ذریعے اپنی بات کے لیے دلائل دیتے رہے ہیں.۰ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ پشتون قوم کے حوالے سے اس قسم بے بنیاد کوششیں کی گئی ہو بلکہ یہ حرکات بہت پہلے کی ہے کہ جن کے ذریعے پشتون قوم کو کبھی بنی اسرائیل کبھی مصر کی قبطیوں کی نسل، کبھی ارمنائی و یونانی تو کبھی ھندو راجپوتوں یا بابلیوں کی اولاد سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے حتی کہ بعض متعصب اور نااہل لکھاریوں نے پشتون کو شیطانوں اور دیوو کی اولاد اور پشتو زبان کو دوزخ کی زبان ثابت کرنے کی کوشش کی جو کہ ایک غیر مہذب شرمناک بے بنیاد عمل اور علم تاریخ کیساتھ ایک گھناونا مذاق ہے۰ یہ لکھاری حضرات اس بات سے بے خبر ہے[ یا قصدا" اس بات پر پردہ ڈالتے ہیں ] کہ پشتون قوم اور پشتو زبان کا ذکر آج سے ساڑھے تین ھزار سال قبل اور حضرت عیسی کی پیدائش سے ساڑھے چودھ سو سال قبل آریا کی مقدس ترانوں {رگویدا} میں کی گئی ہے اور اس قوم کو {پکھت} کے نام سے لکھا گیا ہے جس سے مراد پختون یا پشتون ہے، رگویدا میں {پکھتا} کا لفظ پشتونوں کے بادشاہ اور لفظ {پکھت} پشتون قوم کیلیے استعمال میں لایا گیا ہے. اور ساتھ ہی دس آریہ قبائل کی لڑائی میں پکھت نام شامل ہے۰ اسی طرح زرتشت مذھب کی کتاب [اویستا] میں بھی لفظ {بخد} اور لفظ {پخت} کا ذکر موجود ہے کہ جن سے مراد پختون یا پشتون ہے. حضرت عیسی ع کی پیدائش سی پانچ سو سال قبل ایک یونانی امیر البحر سکائی لاکس جو دارا (ایرانی بادشا) کی طرف سے بحرہ عرب کی تسخیر کیلیے بھیجا گیا تھا بکتیکا {افغانستان کا صوبہ} کے راستے دریاے سندھ {آباسین انڈس] تک پہنچا اور اپنے سفرنامہ میں پشتونوں کے مسکن پکتیکا کے نام سے یاد کیا ہے۰ اسی طرح حضرت عیسی ع کی پیدائش سے دو سو سال قبل ایک اور یونانی جغرافیہ دان بطلیموس کلودیس نے بھی پشتون وطن کو پکتین، پکتیس او پکتویس ایسے ناموں سے یاد کیا ہے. دوسری طرف افغانستان اور پشتونخواہ کے نامور مورخین جیسے استاد احمد علی کہزاد، مرحوم علامہ عبدالحی حبیبی اور مرحوم بھادر شاہ ظفر کاکاخیل نے بھی اپنے علمی دلائل سے یہ بات ثابت کی ھے کہ پشتون نسل کے اعتبار سے آرئین ہے نہ کہ اسرائۂلی اور یہ کہ پشتو زبان بھی آرئین زبان ہے جو کہ ایک زندہ ادبی آرئن زبان کی حثیت سے خود ایک مضبوط تاریخی ثبوت ہے جسکا سامی النسل زبانوں سے نہ تو کوئی تعلق ہے نہ ہی یہودیوں کی زبان عبرانی سے کوئی مشترکہ تعلق و عنصر رکھتی ہے۰ مزید اس موضوع پر غیر افغان مورخین و مستشرقین جیسے پروفیسر کلیرتھ، پروفیسر ڈورن، راورٹی اور ٹرومپ بھی اس بات پر متفق ہیں کہ پشتو زبان کی سامی زبانوں اور یہودی سامی زبان عبرانی سے کوئی تعلق نہیں بنتا نیز یہ کہ پشتو زبان اپنی ھیت قواعد اور اصولوں کی بنا پر آرین زبان ہے۰ درج بالا وجوھات و دلائل کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ علم اللسان (زبانوں کا علم) کے ماھرین کی تحقیق سے یہ ثابت ہوچکی ہے کہ پشتو زبان ایک آرین زبان ہے اور یہود کی زبان عبرانی جسکو انگریزی میں ھیبرو کہا جاتا ھے سے کوئی تعلق و رشتہ نہیں اسی طرح پشتون نسل بھی یھودی نسل سے جو کہ سامی ہے سے بھی کوئی تعلق نہیں رکھتا، نیز یہ واہیات اور یہاں وہاں کی بے دلیل باتیں کہ پشتون یہودی النسل ہے ان باتوں کی کوئی تاریخی حثیت موجود نہیں۰ لہذا ثابت ہے کہ پشتون قوم ایک خالص آرین قوم ہے، اگر مان بھی لیا جاے کہ پشتون یہودی نسل ہے تو آج کے ترقی یافتہ دور میں انسانوں کی ڈی.این.اے ٹیسٹ ایک سادہ سی بات ہے جس سے ثابت ہوسکتا ہے کہ پشتونوں اور یہودیوں کے ڈی.این.ایز میں کوئی مشابھت اور تعلق موجود نہیں.

Tuesday, 7 January 2014



د شمع سينما فحش فلمونه او د چرسو ډک سيګرټونه





د قبائلي علاقې سره تړلى د پېښور ښار شمع سينما چې د تېرو دېرشو کالو نه پکې پورن (فحش) او هوس راولاړونکي فلمونه ښودل کېږي، د دې سينما فلم کتونکي دومره وېرېږي چې د نزدې مارکيټونو يا سټېشن پورې پټ مخ ځي چې څوک يې ونه پېژني. د دې سينما په وړه کوټه کې هره ورځ د فحش فلمونه درې ځل ښودل کېږي او په مرکزي هال کې د مېن سټريم فلمونه ښودل کېږي او د سينما نه بهر تشهيري بورډونه هم د هم دغه فلمونو لګېدلي وي.

په دې سينما کې د فحش فلمونو ټکټ دوه سوه روپۍ دى، يو وسله وال ساتونکى د خلکو تالاشي اخلي او هغه دې وړې کوټې ته بوځي، د دې هال نما کوټې د چمړې تقريباً په شل لائنو کې چوکۍ لګېدلي دي، په کومو چې هر يو کس د بل کس نه لږ کرې کښېناستل خوښوي، د نيوز اېجنسۍ اې اېف پي په مطابق د فحش فلمونو کتونکي زياتره مزدوران، بې روزګاره ځوانان او طالبعلمان دي.

سيکس خرڅېږي نن په دې سينما کې “دوستانه” نومې فلم ښودل کېږي، د سيمي پروفيشنلز د بېنر لاندې جوړ شوى دا فلم د پاکستان په ښار لاهور کې جوړ شوى دى. د دې مينې (سيکسي) فلم د هيرو نوم شاه سوار دى، هغه ته دا فېصله کول دي چې هغه د خپلې ماشوقې ګلپاڼې سره واده وکړي که د خپلې ترلې دعا سره، د کومې رشته چې د ده مور او پلار ده له غوښتې ده. شاه سوار د دې مشکل د حل کولو دپاره د خپلې کېدونکې ناوې د “ټېسټ” کولو فېصله وکړه او دا دوه ساعتونو فلم د دې زياتره فحش سينونه د همدې “ټېسټ” نه تاوېږي، د فلم د ختمېدو نه مخکې د يوې کوټې نه چې پکې تورتم وي څه مشکوک اوازونه هم اورېدل کېږي چې “سيکس خرڅېږي”.

شمع سينما د پېښور په کاميابو سينماګانو کې يوه ده او شايد چې د دې د کاميابۍ راز هم همدا فارموله ده. شل کاله مخکې په پېښور کې شل سينما هالونه وو او اوس صرف اووه پاتې دي، دې کې هم درې کله کله د مېن سټريم فلمونو سره سره د فحش فلمونو کلپس هم ښايي، شمع سينما په داسې فلمونو ښودلو کې مشهوره ده او د يو فحش فلم ټکټ هم په عامه توګه د نورو فلمونو د بيه نه په درې دومره اوچتې بيې باندې خرڅول کېږي.

مقامي سيکسي فلمونه د دې فلم د کاميابۍ يو راز دا هم دى چې په مقامي سطح باندې جوړ شوي سيکسي فلمونه ښودل کېږي ځکه چې داسې په مقامي سطح جوړ شوي فلمونه په ډي وي ډي يا انټرنېټ باندې نه ملاوېږي او ډېر په ګرانه ملاوېږي. ذ “دوستانه” کتو دپاره په دوېم ځل راغلي دېرش کلن خالق خان ويل چې “زه په دوېم ځل د دې فلم کتو له راغلى يم، د نورو ډېرو سړو په څېر زه هم د انګرېزي فحش فلمونو په ځاى پاکستاني فحش فلمونه کتل خوښوم”، د دې فلم خپله ژبه پنجابي ده خو دا يې په پښتو کې ډب کړى دى.

طاقتور مالکان شمع سينما د پاکستان په ښکته طبقې کې د سيکس او عريانيت په معامله کې اولسي رويه هم مخې ته کوي، د پاکستان يوې طاقتورې مذهبي او سياسي ګوند جماعت اسلامي د دې سينما کورونو د بندولو مطالبه کړې ده خو د سينما مالکان هم طاقتور دي، د بلور کورنۍ نه صرف چې طاقتور ده بلکې د پښتنو د نېشنلسټ ګوند (اې اېن پي) ستن تصور کېږي، په تېرو لسو کالو کې د جماعت اسلامي طالب علمانو په شمع سينما دوه ځله حمله کړې ده خو د دې په مقبوليت کې څه کمى نه دى راغلى، په کال ٢٠١٢ء کې دې سينما ته اور اچول شوى وو خو صرف يو مياشت پس د لوى اختر په ورځ دا سينما هال يو ځل بيا له خلکو ډک وو.

واپس راځو د “دوستانه” فلم په لور، چرته چې په غم او د شرابو په نشه کې ورک شاه سوار تر اوسه پورې دا فېصله نه شي کولى چې د دې دپاره کومه جينۍ ښه ده، د فلم اختتام رارسېدلى دى او هغه هم د دې ګرانې فېصلې په حل کولو کې کامياب شوى دى، هغه د دواړو سره د واده کولو فېصله کړې ده.
 — 

leekoonky
M. Imran ashna
03339462448